اڈپی 9؍اپریل (ایس او نیوز) اڈپی سے ملنے والی اطلاع کے مطابق ملپے پولیس اسٹیشن سے وابستہ ایک پولیس کانسٹیبل کواس لئے معطل کردیا گیا ہے کیونکہ اس نے اپنی حاملہ بیوی سے چھیڑ چھاڑ کرنے والے اوباش لڑکے کی مبینہ طور پرپیٹائی کردی تھی۔
کہتے ہیں کہ ملپے پولیس اسٹیشن سے وابستہ کانسٹیبل پرکاش اپنی حاملہ بیوی کو لے کر اسپتال گیا ہوا تھا۔ واپسی پر جب وہ اے ٹی ایم بوتھ میں پیسے نکالنے کے گیا تو باہر کھڑی کی اس کی بیوی کے ساتھ کمار نامی ایک نوجوان اوراس کے ساتھیوں نے چھیڑچھاڑشروع کی۔ بیوی نے اپنے شوہر پرکاش سے شکایت کی تو وہ ان لڑکوں سے الجھے بغیر بیوی کو بائک پر بٹھا کر وہاں سے چل پڑا۔ لیکن ان اوباش لڑکوں نے اس کی گاڑی کا پیچھا کیا اور راستے میں پرکاش کی بیوی کاہاتھ پکڑکر کھینچنے کی کوشش کی تو اس نے اپنی بائک روکی اور وہ کمار اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ الجھ پڑا۔ اس نے پولیس ویان سے مدد بھی طلب کی اور ان لڑکوں کو پولیس اسٹیشن لایا گیا ۔ مبینہ طور پر اس وقت پرکاش نے کمار کو تھپڑ مارا۔
کانسٹیبل پرکاش کے مطابق اب یہاں سے کہانی میں ٹوِسٹ آتا ہے اور سیاسی دباؤ اور دخل اندازی شروع ہوتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ چھیڑ خانی کا ملزم کمار ضلع انچارج منسٹر پرمود مادھو راج کی مچھلی فیکٹری میں ملازم ہے۔ اس بنیاد پر وزیر مادھو راج کی بیوی نے پرکاش کوسب انسپکٹردامودر کی معرفت بلا بھیجا اور اس پردباؤ بنایا کہ کمار کے خلاف پولیس کیس کو واپس لے اور معاملہ رفع دفع کرلے۔ دوسری طرف کمارپولیس کانسٹیبل پر مار پیٹ کا الزام لگاتے ہوئے علاج کے لئے اسپتال میں داخل ہوگیا ہے۔ اسی کے ساتھ پولیس کے اعلیٰ افسران نے مارپیٹ کرنے کے لئے پرکاش کو معطل کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں جس کے بارے میں عوام کا احساس ہے کہ یہ سیاسی اثر ورسوخ کی وجہ سے ہوا ہے۔
اسی طرح پرکاش کی بیوی نے اڈپی کے خواتین پولیس اسٹیشن میں کمار اور اس کے ساتھیوں کے خلاف چھیڑخانی اور ہراسانی کی شکایت درج کروائی ہے۔ اور اپنے لئے پولیس کا تحفظ مانگا ہے۔ اس سارے معاملے پر پرکاش نے پولیس افسران کی تنظیم کے صدر ششی دھر کو جوآڈیو پیغام بھیجا ہے اس میں اپنی دکھ بھری کہانی بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر کی بیوی نے مصالحت کے لئے کس طرح اس پر دباؤ بنایا اوراس کے افسران نے اس کے ساتھ کیا رویہ اپنایا۔ سوشیل میڈیا پر پرکاش کی یہ آڈیو کلپ وائرل ہوگئی ہے۔